ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سابق وزرائے اعلیٰ زندگی بھر سرکاری رہائش گاہ کے مستحق نہیں:سپریم کورٹ

سابق وزرائے اعلیٰ زندگی بھر سرکاری رہائش گاہ کے مستحق نہیں:سپریم کورٹ

Mon, 01 Aug 2016 21:22:41    S.O. News Service

نئی دہلی، یکم اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے آج کہا کہ سابق وزیراعلیٰ زندگی بھر سرکاری رہائش کے مستحق نہیں ہیں۔جسٹس انل آر دوے کی صدارت والی بنچ نے 2004کی ایک عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی بھی سرکاری رہائش گاہ کو دو سے تین ماہ کے اندر خالی کردیا جانا چاہیے ۔اس بنچ میں جسٹس یو یو للت اور جسٹس ایل ناگیشور راؤ بھی تھے۔بنچ نے کہاکہ ان لوگوں کے پاس زندگی بھر کے لیے سرکاری رہائش گاہ کو اپنے پاس رکھے رہنے کا حق نہیں ہے۔یہ فیصلہ اترپردیش کی غیر سرکاری تنظیم لوک پرہری کی جانب سے دائر درخواست پر آیا ہے۔اس درخواست میں سرکاری بنگلے سابق وزرائے اعلی کو اور دیگر غیر مستحق تنظیموں کو الاٹ کئے جانے کے خلاف ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔لوک پرہری نے الزام لگایا تھا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کے باوجود اترپردیش حکومت نے سابق وزرائے اعلی کو بنگلے الاٹ کرنے کے لیے سابق وزیر اعلی رہائش الاٹمنٹ قواعد، 1997(غیر قانون سازی)بنا دیا۔این جی او نے دعوی کیا تھا کہ سابق وزرائے اعلی کو سرکاری بنگلے الاٹ کرنے کے لیے 1997میں بنایا گیاقانون غیر آئینی اور غیر قانونی تھا اور جو لوگ ان میں رہ رہے ہیں، وہ اتر پردیش عوامی پریسر (غیر مجاز قبضہ کنندگان کے اخراج)قانون کے تحت غیر قانونی قبضہ کنندگان ہیں۔درخواست گزار نے یہ بھی کہاہے کہ عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی سابق وزرائے اعلی کی طرف سے سرکاری رہائش گاہ کو اپنے پاس رکھے رہنا ،اتر پردیش وزیر،تنخواہ، بھتے اور دیگر سہولیات،قانون کی دفعات کے خلاف ہے۔اس درخواست پر فیصلہ 27؍نومبر 2014کو محفوظ رکھ لیا گیا تھا۔


Share: